پہلا پارٹ: پھانسی کے سائے میں

زندگی کے آخری لمحے کیوں برے معلوم ہوتے ہیں۔شاید اس لیے کے محض جینا ہی کا فی ہے۔محض جینا ہی خو بصورتی ہے۔مجھے فیروز ڈاکو کے آخری لمحات یا د آتے ہیں۔ان دنوں میں کا لج میں پڑتا تھا ،اور گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دوست کے ہا ں رام گڑھ جا رہا تھا ۔تھرڈ کلاس کے ڈبے میں بھیڑتھی،بڑی بمشکل سے مجھے کھڑے ہونے کی جگہ ملی ،لمبا سفر تھا کئی گھنٹے اسی طرح کھڑے کھڑے گزر گئے،میرے قریب کے بنچ پر دو ننھی ننھی لڑکیاں بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ ان کا بھا ئی جس کی عمر بمشکل آٹھ نو سال ہو گی،ان سے پڑے ان کی ما ں بیٹھی تھی،اس سے پڑے پھر دو لڑکے بیٹھے تھے ان کے کپڑے صاف تھے اور سر پر چھوٹی چھوٹی ململ کی ٹوپیاں ،اس کے ساتھ ان کی ما ں بیٹھی تھی،ادھر عمر کی لالائین ،جس نے ایک میلے رنگ کی ریشمی دھو تی پہن رکھی تھی اس کا گو ل چہرہ متین اور غمگین نظر آتا تھا۔دونوں لڑکے سمٹ کر الگ بیٹھے تھے ،اور کبھی کبھی ان دو ننھی ننھی لڑکیوں کی ما ں کو دیکھ لیتے ،ان کے چہروں پر غم و غصہ اور خوف کے جذبات ہوا یدہ ہو جا تے تھے اور پھر وہ اپنا چہرہ پرے کر لیتے اوراپنی ما ں کا آنچل پکڑلیتے ننھی لڑکیوں کی ما ں کا چہرہ فق تھا اور با ر با راس کی آنکھوں میں آنسوڈبڈبا آتے اور وہ انہیں کا لے رنگ کے کھدر کے ڈوپٹے سے پو نچھ لیتی اور پھر کھڑکی سے دیکھنے لگتی،اس کا لڑکا اپنی ننھی بہنوں کو میٹھے نو سو اور کھٹے کچا لو اور گنڈیریا ں راستے کے مختلف اسٹیشنوں سے خرید کر کھلا تاتھااور لالائین کے لڑکے اسے گھور کر اسے دیکھتے اور پھر اپنی ماں سے کسی چیز کی فر ما ئش کرتے اور پھر لالائن آہستہ سے جھک کر سیٹ کے نیچے ایک ٹو کری کا ڈھکنا الگ کر کے سیب یا سنگتڑیا کیلے نکا ل کر اپنے بیٹوں کو دیتی اور مزے سے پھل کھانے اور اسے دکھا دکھا کر کھا نے میں مصروف ہو جا تے۔ابھی رام گڑھ بہت دوڑ تھا اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا تھا ۔اس لیے میں نے اپنے قریب کے بنچ پر بیٹھی ہو ئی ننھی لڑکی سے التفات ظاہر کیا ۔اسے ایک ادو اسٹیشنوں سے کھا نے کے لیے چیزیں بھی پیش کیں ،بڑی پیا ری ننھی سی لڑکی تھی۔وہ بہت جلد میری گود میں آگئی اور میں آرام سے اس کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اس نے میری ناک سے کھیلتے ہوئے کہا۔’’تم ‘‘کدھل جا رہے ہو !‘‘میں نے کہا رام گڑھ جا رہا ہوں۔‘‘ننھی نے اپنی ما ں سے مخاطب ہو کر کہا ۔’’اماں !یہرام گھر جا رہا ہے۔‘‘ننھی کی ما ں نے مجھے گھور کر دیکھا۔قریب بیٹھی ہوئی لالائن اور اس کے دونوں لڑکوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور پھر کسی نے مجھ میں دلچسپی لینا منا سب نہ سمجھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں