دنیا میں سب سے پہلاقتل کیوں ہوا؟

اس دنیا میں جہاں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہیں،سڑکوں پر فراٹے بھرتی گاڑیا ں ہیں ،سامان سے بھری ہوئی دکانیں خوبصورت مسجدیں ہیں،عظیم الشان درسے ہیں،کچے اور پکے گھر ہیں،اچھلتے کودتے بچے ہیں ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں کعئی چیز بھی نہ تھی،بہ عمارتیں ،نہ مسجریں،نہ گھر بہ سڑکیں ،نہ گاڑیاں بہ مدرسے نہ بچے اور نہ ان کی شرارتیں.الغرض اتنی بڑی دنیا خالی ہی پڑی تھی اللہ تعالی نے اسے آباد کرنے کے لئے دہ انسان بیھجے ان میں‌ایک مرد شوہر دوسری عورت تھی .وہ دونوں بہت نیک تھے وہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے اور اللہ کی عبادت کرنے والے ہی نیک لوگ ہوتے ہیں.بیشک
آپ سوچتے ہوں‌گے کہ کیا انہیں اس ویران اور خالی دنیا میں ڈر نہیں لگتا ہو گا؟جی ہاں‌وہ بالکل نہی ڈرتے تھے .وہ صرف اللہ تعالی سے ڈرتےتھے اور جو اللہ سے ڈرتا ہو اسے کسی چیز کاڈر نہیں لگتا یہ دونوں میاں بیوی بہت محنتی تھے ان دونوں کے نام بابا آدم اور اماں حوا تھا .باباآدم دنیا میں آنے والے پہلے انسان بھی تھے اور نبی بھی.اللہ تعالی نے آپ کو ایسا علم دیا تھا جس پر عمل کرنے سے اللہ راضی ہوتا ہے.آدم کو اللہ تعالی نے بہت سے بیٹے اور بیٹیاں عطافرمائی تھیں‌.آپ کے بیٹوں میں سے دو بیٹے ہابیل اور قابیل بہت مشہور ہوئے.ہابیل بہت نیک اور محنتی نوجوان تھا .ہمیشہ سچ بولتا اور ہر کسی کے کام آتا تھا اور باپ کا فرمانبردار تھا.بکریا ں چرا کر اپنااور قاپنے والدین کا پیٹ پالتا تھا قابیل اسے دیکھ جلتا تھا دوسروں کےے اچھے کام دیکھ کر جلنے والے اچھے انسان نہیں‌ہوتے اور اسیے لوگوں کو حاسد کہا جاتاہے حسد کرنے والے کو کبھی سکون نہیں ملتا اور وہ ہر وقت پریشان رہتا ہے اس کی ساری نیکیا ں ضائع ہو جاتی ہے.
نبی اکرم ﷺنے فرمایا :
ایک دن ہابیل نے قابیل نے صدقہ کیا ہابیل نے اپنی بکریوں میں صحت مند موٹی تازی اور سب سے اچھی بکری خیرات کی قابیل نے اناج میں سے گھٹیا قسم کا اناج خیرات میں دیا اللہ تعالی نے ہابیل کی قربانی قبول کر لی اس لیے کہ اس کی نیت اچھی دتھی اور قابیل کی نیت اچھی نہیں تھی اس لیے اللہ تعالی نے قابیل کی قربانی قبول نہ کی ۔ جب قابیل نے دیکھا کہ ہابیل کا صدقہ قبول ہو گیا او ر صدقہ قبول نہیں ہو تو وہ اور زیادہ حسد کرنے لگا اسنے ہابیل کو دھمکی دی کہ میں تجھے قتل کر دوں گا.
ہابیل نے کہا میرے بھائی تم مجھ سے حسد کیوں کرتے ہومحنت اور اچھے کام کرو اللہ تمہارا صدقہ بھی قبول فرمائے گا اگر تم نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں قتل نہیں کروں گا کونکہ تم مسلمان بھی ہو اور میرے بھائی بھی مسلمان کو قتل کرنا بہت بڑا جرم اور کبیرہ گنا ہ ہے ۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور جو اللہ سے ڈرتا ہو وہ قتل جیسا گناہ نہیں کر سکتا جو کسی مسلمان کو قتل کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے قابیل پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے ہا بیل کو قتل کر دیا یہ دنیا کا پہلا قتل تھا ، اب قابیل پریشان ہونے لگا کہ اپنے بھائی کی لاش کا کیا کرے وہ اسی پریشانی میں بیٹھا ہوا تھا ۔ کہ اس کی نظر ایک کوے پر پڑی جو اپنے بھائی کو دفنا رہا تھا اس نے دیکھا کہ کوئے نے زمین میں گڑھا کھودا اور دوسرے کوئے کو اس میں ڈالتے ہوئے.
اس پر مٹی ڈال دی قابیل یہ دیکھ کر بڑا شرمندہ ہو کہ پرندہ مجھ سے سمجھدار ہ اسے اپنے بھائی کی لاش کو دفن کرنے کا طریقہ آتا ہے ۔چنانچہ قابیل نے بھی ایسا ہی کیا اور اپنے بھائی کو دفن کر دیا ۔پیارے دوستو ۔۔ اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ صدقہ خیرات کرنا چاہیے ، نیکی کا اعلی مقام اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں وقف کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور حسد سے بچنا چاہیے کیونکہ حسد نیکیوں کو کھا جاتاہے اور محبت کرنی چاہیے اللہ محنت کرنے والوں کو پسندکرتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں