تنخواہوں میں20 فیصد اضافہ، سینیٹ کی سفارشات؛ مالیاتی بل کا حصہ بنائیں گے، اسحاق ڈار

سلام آباد: سینیٹ نے مالی سال 2017-18 کے مالیاتی بل کیلیے 250 سے زائد سفارشات منظور کرکے قومی اسمبلی بھجوا دیں جس میں تنخواہوں اور پنشن میں20 فیصد اضافے، جی ایس ٹی 17 سے کم کرکے 10 فیصد کرنے اور کسانوں کیلیے قرضے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
گزشتہ روز ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سفارشات ایوان میں پیش کیں، سینیٹ نے سفارش کی ہے کہ زرعی پیداوار میں اضافے کیلیے تمام درآمدی ہائبرڈ بیجوں پر امپورٹ اور کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے، ملک کے اندر تیار ہونے والے ٹریکٹرز کی صنعت پر سیلز ٹیکس5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیا جائے۔
پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی 3 فیصد تک کم کی جائے، زرعی قرضوں پر مارک اپ کی شرح 7 فیصد کی جائے، عسکریت پسندی سے متاثرہ افراد کے خاندانوں کی بحالی کیلیے وکٹمز سپورٹ فنڈ قائم کیا جائے اور اس سلسلے میں ابتدائی طور پر 20 ارب روپے مختص کیے جائیں، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق فنڈ کیلیے ایک ارب روپے مختص کیے جائیں، چھوٹے کسانوں کیلیے مارک اپ کی شرح 9.9 فیصد کی جائے اور انھیں ٹریکٹر سمیت زرعی مشینری کی خریداری کیلیے کم از کم ایک لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے۔
ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلیے نئے گوشوارے جمع کرانے والوں کو کم از کم 3 سال کی مدت کیلیے آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، پولیس اور ایف سی سمیت تمام سیکیورٹی فورسز کیلیے خصوصی پے اسکیل دیے جائیں، گھروں کی تعمیر کیلیے قرضے کی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کی جائے۔ 25 فیصد تک بجلی کے استعمال میں کمی کرنے والے تمام محکموں کو بلوں میں 3 ماہ کے لیے 10 فیصد کی رعایت دی جائے، پٹرولیم لیوی اور گیس، بجلی اور پٹرول پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔
کراچی میں پانی کی فراہمی کے منصوبے کیلیے ایک ارب روپے مختص کیے جائیں، کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور ترقی کیلیے 20 ارب روپے مختص کیے جائیں، تمام غیر ملکی قرضوں اور اقتصادی معاہدوں کی تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں، حکومت کفایت شعاری کے اقدامات کرے اور وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر کو ختم کیا جائے، بجلی کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا انتظام صوبوں کے سپرد کیا جائے اور توانائی سے متعلق مختلف وزارتوں کو یکجا کرکے توانائی کی وزارت قائم کی جائے۔
بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کیلیے سبسڈی میں اضافہ کیا جائے، حکومت سے ہر قسم کے صوابدیدی اختیار اور فنڈز حاصل کرنے والوں کا آڈٹ ہونا چاہیے، گوشوارے جمع نہ کرانے والوں پر ٹیکس اور سزا میں اضافے کیا جائے، فاٹا کی تعمیر نو کیلیے جی ڈی پی کی 3 فیصد رقم مختص کی جائے، خیبر پختونخوا میں چھوٹے ڈیم اور پن بجلی کے منصوبے شروع کیے جائیں، فاٹا تک سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے سمیت 3 سفارشات واپس لے لی گئیں۔
بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا 6 فیصد کا ہدف حقیقت پسندانہ ہے، حکومت پر زیادہ قرضے لینے کا تاثر درست نہیں، 2013 میں کل غیر ملکی قرضہ 48 ارب 10 کروڑ ڈالر تھا جو مارچ 2017 تک 58 ارب 14 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے، 4 سال میں ٹیکس وصولی میں 80 فیصد اضافہ ہوا، غربت میں کمی آرہی ہے، ایک عالمی ادارے نے پاکستان میں غربت کی شرح 9.5 فیصد بتائی ہے لیکن اس سے ہم اتفاق نہیں کرتے، نئے بجٹ میں غریب طبقے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، جتنی بھی ہو سکیں سینیٹ سے موصول ہونے والی سفارشات کو مالیاتی بل کا حصہ بنائیںگے، یہ درست نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا، نئے این ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہے، اس پر ہمیں مل بیٹھنا چاہیے، چھوٹے موٹے اختلافات بھلا دینے چاہئیں۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں بجٹ پر بحث 11 دن جاری رہی جس میں 57 ارکان نے حصہ لیا، وفاقی وزیر شیخ آفتاب نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد ہٹانے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ایوان نے ایران کی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر دہشت گردوں کے حملے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کر لی، بعدازاں اجلاس آج صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں