پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی آئن سٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ سے زیادہ ذہین بچی

آئن اسٹائن اوراسٹیفن ہاکنگ سے زیادہ ذہین قرار پانے والی وکٹوریہ گیارہ برس کی ہیں جن کا آئی کیو اسکور162 ہیں۔ جو کہ دنیا کے ذہین ترین افراد جن میں آئن اسٹائن، اسٹیفن ہاکنگ اور بل گیٹس شامل ہیں ان سے بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اسکور کے بعد وکٹوریہ کا شمار بھی اب برطانیہ کی ایک فیصد ذہین ترین آبادی میں ہورہا ہے۔162 آئی کیو کے بعد اس اسکول طلبہ کو Mensa میں داخلہ مل گیا ہے۔Mensa دراصل دنیا کی سب سے بڑی اور پرانی ہائی آئی کیو سوسائٹی ہے جس میں ذہانت کے اعلٰی معیار
پر پورا اترنے والے ہائی آئی کیو پوائنٹ اسکور کرنے والے افراد کو شامل کیا جاتا ہے۔لٰہذا اس بلند ترین اسکور کے بعد وکٹوریہ کو بھی اس سوسائٹی کا حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ وکٹوریہ کی نسبت البڑت آئن اسٹائن، اسٹیفن ہاکنگ اور بل گیٹس کے آئی کیو پوائنٹ 160 بتائے جاتے ہیں۔اس نتیجے کے بعد وکٹوریہ کو چار بہترین اسکولوں سے اسکالر شپ کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔ جبکہ وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ اسےان نتائج نے بالکل حیران کردیا ہےکیونکہ وہ تو بالکل اپنی ہم عمرعام اسکول طلبہ کی طرح ہے۔ جو کھیل کود اور موج مستی میں مگن رہتی ہے۔ لیکن ان نتائج نے اسے اچانک حیران کردیا ہے کیونکہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس قدر ذہین ہے کہ اس کا شمار آئن اسٹائن، اسٹیفن ہاکنگ اور بل گیٹس میں کیا جانے لگے گا۔ وکٹوریہ کا مزید کہنا تھا کہ “ویسے ان نتائج نے جہاں مجھے حیران کیا وہاں یہ سوچ کر مجھے بیحد خوشی بھی ہوئی ہے کہ، واؤ: میں اس قدر جنئیس ہوں۔ ویسے مجھے معمے حل کرنے اور مخلتلف چیلنجنگ کام کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔ مجھے سائنس میں بہت دلچسپی ہے اور بڑے ہوکر خاص طور پر بیالوجی پڑھنا چاہتی ہوں۔” وکٹوریہ نے Mensa کا ٹیسٹ پاس کرکے ہائی آئی کیو لوگوں کی سوسائٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔گیارہ برس کی وکٹوریہ نے اس سوسائٹی کے اکثرلوگوں کو حیران کردیا ہے۔ وکٹوریہ نے اس ضمن میں نہ صرف ذہین ترین سائنسدان اور مائیکرو سافت کے بانی بل گیٹس کو مات دی ہے بلکہ آسڑیا کے نیورولوجسٹ سیگمنڈ فریڈ، جن کا آئی کیو156 تھا۔ نپولین،جن کا آئی کیو 145 اور ہیلری کلنٹن جن کا آئی کیو 140 تھا ان سے بھی زیادہ ذہانت کا اعزار حاصل کرلیا ہے۔Mensa کے قائم کردہ معیار کے مطابق 148 یا اس سے زیادہ آئی کیو کے لوگ آبادی کا 2 فیصد ہوتے ہیں۔ جبکہ 100 آئی کیو والے افراد کا شمار اوسط درجے کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وکٹوریہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک اپنی دوستوں کو یہ حیرت انگیز خبر نہیں سنائی۔وکٹوریہ نے مزید بتایا کہ”مجھے سائنس کے تجربات کرنے میں بڑی دلچسپی ہے۔اس کے علاوہ مجھے اداکاری، رقص اور موسیقی کے آلات بجانے کا بھی بہت شوق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں تھیٹر ورک شاپ میں باقاعدگی سے حصہ لیتی ہوں اور کھیلوں میں مجھے تیراکی بہت پسند ہے۔لیکن میرا سب سے پسندیدہ مضمون بیالوجی ہے اور میں بڑے ہوکر جانوروں کی ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے جانوروں سے بہت محبت ہے۔”وکٹوریہ اپنے والدین کے ہمراہClaverley کے علاقہ میں جو کہwolverhampton کے قریب واقع ہے وہاں رہائش پذیر ہے۔ وکٹوریہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ یہ توجانتے تھے کہ ان کی بیٹی ذہین ہے لیکن انہیں یہ ہرگز علم نہیں تھا کہ اس وہ قدر جنئیس بھی ہے۔اس کی والدہ ایلس کا کہنا ہے کہ”انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ ان کی بیٹی جب نرسری میں تھی تو اس کی پڑھنے کی صلاحیت اپنے ہم عمر طالب علموں سے دوگنا زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ وہ اسکول میں سائنس ایوارڈ بھی حاصل کرتی رہتی ہے۔ہم ہمیشہ سے یہ جانتے تھے کہ وہ ذہین، عقلمند اور باصلاحیت ہے اور ہمیشہ اپنے اسکول میں اس کا شمار ٹاپ لسٹ طالب علموں میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اسے Mensa کے ذہین ترین لوگوں میں شمار کرلیا جائے گا۔ آئی کیو اسکور میں وکٹوریہ نے جن ذہین ترین افراد سے سبقت حاصل کی ہے ان میں۔ البرٹ آئن اسٹائن۔160 اسٹیفن ہاکنگ۔160 کوئنٹائن ٹیرینٹینو۔160 سگمنڈ فریڈ۔156 نپولین۔145 میڈونا۔140 ہیلری کلنٹن۔140 آرنلڈ سوارزنگر۔135 بل کلنٹن۔135 نیکول کڈمین۔132 شامل ہیں۔ اس کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے لیے بالکل ایک عام سی بچی ہے جو کھیل کود، اداکاری، موسیقی اور رقص کو بہت پسند کرتی ہے۔ وکٹوریہ پیانو، سیلو، سیکسوفون اور ریکارڈر بھی بجالیتی ہے۔ اگرچہ وکٹوریہ جانوروں کے ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے لیکن فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ اپنی ذہانت کا صحیح استعمال کہاں کرے گی۔وکٹوریہ کے والدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میں اور اس کی والدہ ذہین ہیں لیکن ہمیں Mensa میں داخلہ نہیں ملا اس کا مطلب ہے کہ ہماری بیٹی میں فطری طور پر ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جن کی بدولت اسے ذہین ترین قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کا نتیجہ دیکھ کر ہم بہت حیران ہوئے تھے اور ہمیں اپنی بیٹی پر فخر بھی ہے۔ ہم نے اسے کبھی کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا ہے۔ خواہ وہ پڑھائی ہو یا کھیل اور نہ ہی آئندہ اسے زبردستی کسی کام میں دھکیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وکٹوریہ کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی ہے۔وکٹوریہ کی والدہ نے آخر میں یہ کہا”ہاں لیکن ہم اسے یہ ضرور کہیں گے کہ وہ اپنا کمرہ ضرور صاف ستھرا رکھا کرے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں